ٹرمپ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتے ہیں؟ امریکی صحافی کا بڑا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا آپشن اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں پہاڑوں کے اندر موجود زیر زمین تنصیبات تک پہنچنے کے لیے روایتی امریکی ہتھیار مؤثر ثابت نہیں ہوسکتے۔

latest urdu news

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل میں انتخابی نتائج کے حوالے سے پریشان ہیں اور انہیں سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لیے ایک بار پھر ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے۔

امریکی صحافی کے مطابق نیتن یاہو ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر ہر ممکن دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ایران کی زیر زمین تنصیبات اور جوہری حملے کا امکان

ٹکر کارلسن کا کہنا تھا کہ ایران میں پہاڑوں کے اندر قائم سرنگوں اور زیر زمین تنصیبات تک پہنچنے کے لیے امریکہ کے روایتی ہتھیار مؤثر نہیں ہوسکتے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے جوہری حملے کا آپشن زیر غور آسکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو کے دباؤ کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

تاہم ٹکر کارلسن کا یہ بیان ان کا ذاتی تجزیہ اور دعویٰ ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں امریکی حکومت کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کی تیاری یا ایسے کسی فیصلے کی تصدیق موجود نہیں۔

ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے لیے اسرائیل کی فوجی تیاریاں مکمل، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

ٹرمپ کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بیان

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کردیا ہے، تاہم ان کے مطابق پیکیکس ماؤنٹین سمیت ایک یا دو مقامات باقی ہیں جن سے نمٹنا صرف 10 منٹ کا کام ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان اور ٹکر کارلسن کے حالیہ دعوے کے بعد ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات اور ممکنہ امریکی کارروائی سے متعلق بحث مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں