ایک امریکی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک مشکل عسکری اور سیاسی صورتحال اختیار کر چکی ہے، جہاں جنگ کا خاتمہ بھی آسان نہیں رہا اور اس میں مزید شدت لانا بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فضائی اور بحری کارروائیوں سے اگرچہ واشنگٹن کو کچھ وقتی فوجی کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم ان کے بقول امریکا اپنے بنیادی اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے ترکیے کو ایف-35 طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی اعتراض مسترد کر دیا
رابرٹ پیپ کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ایران کمزور ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہو کر سامنے آیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ کے سامنے دو ہی ممکنہ راستے موجود ہیں۔ ایک یہ کہ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی کوشش کی جائے، جبکہ دوسرا راستہ عسکری کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنا ہے، جس کے نتائج مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
