اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کے معاملے پر جلد اپنا مؤقف سامنے لائے گی اور اس حوالے سے پارٹی کی آئندہ مشاورت میں بھی غور کیا جائے گا۔
دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر جلد فیصلہ کرے گی، جبکہ اتوار کو ہونے والے پارٹی اجلاس میں بھی اس موضوع پر بات ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری کے حکومت مخالف بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول کو ایک سنجیدہ سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مشیر انہیں "ٹک ٹاک کا لیڈر” بنانا چاہتے ہیں تو یہ پیپلز پارٹی کے لیے بدقسمتی ہوگی۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو ایک بڑی جماعت کے چیئرمین ہیں، لیکن معلوم نہیں ان کے مشیر ان سے کیا کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک پر ایسے بیانات دینا سنجیدہ سیاست کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مستحکم ہے اور اسے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اگر کوئی تحریک عدم اعتماد لانا چاہتا ہے تو اسے آئینی حق حاصل ہے، تاہم ان کے بقول ایسی کوشش کرنے والے خود سیاسی نقصان اٹھائیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نظام اور آئین اپنی جگہ برقرار رہیں گے اور اگر تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو یہی نظام بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت بھی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہی ہے اور دیگر اداروں سے بھی یہی توقع رکھتی ہے۔
آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہو جائے گا۔
