نئی دہلی: بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کے بارے میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنی حالیہ فلم ’’ستلج‘‘ میں کام کرنے کے لیے صرف ایک بھارتی روپیہ بطور معاوضہ قبول کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے ہدایتکار ہنی تریہان نے بتایا کہ اگر دلجیت دوسانجھ اس منصوبے کا حصہ نہ بنتے تو ممکن ہے یہ فلم کبھی مکمل ہی نہ ہو پاتی۔
ہدایتکار کے مطابق معاوضے پر بات چیت کے دوران دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ جسونت سنگھ خالڑا جیسے کردار کو نبھانے کے لیے معاوضہ لینا انہیں مناسب نہیں لگتا۔ ان کے بقول اگر معاہدے کی قانونی کارروائی کے لیے ادائیگی ضروری ہے تو صرف ایک روپیہ کافی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فلم 3 جولائی کو ریلیز ہوئی، تاہم بعد ازاں بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے کہانی اور مکالموں پر متعدد ترامیم تجویز کی گئیں، جس سے فلم کی ریلیز متاثر ہوئی۔ بعد میں بھارتی حکومت نے مبینہ سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے فلم کی نمائش محدود کر دی اور اسے بعض آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی ہٹا دیا گیا۔
دلجیت دوسانجھ کا بھارتی میڈیا اور حکام پر سخت وار
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پابندیوں کے باوجود بھارت کے مختلف مقامات پر شائقین نے فلم کو دیگر ذرائع سے حاصل کر کے بڑے پردوں پر دکھایا۔
دلجیت دوسانجھ کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے، جہاں متعدد صارفین نے اسے فنکار کی اپنے کردار اور موضوع سے وابستگی کی مثال قرار دیا ہے۔
