ایرانی میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شریک پراسرار نقاب پوش شخصیت کی شناخت سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای تھے۔
رپورٹس کے مطابق محمد جواد خامنہ ای، آیت اللہ علی خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ رواں برس 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل سے منسوب فضائی حملوں میں شدید زخمی ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں ان کے چہرے پر گہرے زخم آئے اور وہ جھلس بھی گئے تھے۔
اسی وجہ سے نمازِ جنازہ میں انہوں نے اپنا چہرہ مکمل طور پر سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا، جس کے باعث ان کی شناخت سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہیں۔
نمازِ جنازہ کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد متعدد صارفین نے دعویٰ کیا تھا کہ نقاب پوش شخصیت موجودہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل محمد جواد خامنہ ای تھے۔
دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق بھی مختلف غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فضائی حملے کے وقت وہ بھی اسی رہائش گاہ میں موجود تھے، تاہم دوسرے حصے میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔ رپورٹس کے مطابق انہیں حملے میں ٹانگوں، ہاتھ اور بازو پر چوٹیں آئیں، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قبر کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آ گئیں
مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کسی عوامی تقریب یا خطاب میں نظر نہیں آئے اور وہ اعلیٰ فوجی و مذہبی قیادت سے ہاتھ سے تحریر کیے گئے پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں۔
تاہم ان تمام دعوؤں اور مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق اطلاعات کی ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
