اولمپک گولڈ میڈلسٹ کا کہنا ہے کہ وہ 2022 جیسی کارکردگی دہرانے کے لیے پُرامید ہیں، جبکہ بڑے ایونٹ سے قبل سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلے میں بھی شرکت کریں گے۔
پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی شہرت یافتہ جیولن تھروور ارشد ندیم نے کہا ہے کہ انہوں نے کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے بھرپور تیاری کر لی ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ارشد ندیم نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں ریکارڈ ساز تھرو کے ذریعے گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ اب وہ آئندہ ایونٹ میں بھی اسی اعزاز کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
سوئٹزرلینڈ میں بین الاقوامی مقابلے میں شرکت
پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں اپنے آخری تربیتی سیشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے بتایا کہ وہ کامن ویلتھ گیمز سے قبل ایک بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے ایونٹ سے پہلے ایک بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینا ان کے معمول کا حصہ ہے، کیونکہ اس سے اپنی فارم، فٹنس اور جسمانی تیاری کا بہتر اندازہ ہو جاتا ہے۔
"آج بھی خود کو 2022 جیسی پوزیشن میں محسوس کرتا ہوں”
ارشد ندیم نے کہا کہ 2022 کے کامن ویلتھ گیمز کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔ ان کے مطابق جس اعتماد اور فارم میں وہ اس وقت تھے، وہ خود کو آج بھی تقریباً اسی کیفیت میں محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برس سے وہ کامن ویلتھ چیمپئن ہیں، اس لیے اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے بقول اس کامیابی کو برقرار رکھنے کا دباؤ ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ اس چیلنج کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہیں۔
دبئی میں ارشد ندیم کا عالمی اعزاز، شیخ محمد بن زاید ایوارڈ حاصل کر لیا
"میرا اصل مقابلہ ہمیشہ خود سے ہوتا ہے”
اولمپک چیمپئن نے کہا کہ ان کا اصل مقابلہ ہمیشہ اپنی سابقہ کارکردگی سے ہوتا ہے، تاہم وہ جانتے ہیں کہ اس بار دیگر کھلاڑی بھی مضبوط تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے سری لنکا کے ایک جیولن تھروور کی حالیہ اچھی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ مقابلہ سخت ہوگا، لیکن انہوں نے اس کے مطابق اپنی تیاری بھی کی ہے۔
فینز سے دعاؤں کی اپیل
ارشد ندیم نے کہا کہ ہر بڑے مقابلے میں دباؤ ایک فطری امر ہوتا ہے، تاہم کامیاب کھلاڑی وہی ہوتا ہے جو میدان میں اس دباؤ کو قابو میں رکھے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس اعزاز کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے اور وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بار پھر بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔
ارشد ندیم نے اس موقع پر یاد دلایا کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے اولمپکس کے لیے براہِ راست کوالیفائی کیا۔ انہوں نے اپنے مداحوں سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند اور فٹ رکھے تاکہ وہ پہلے کی طرح بہترین تھروز کر کے پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں۔
