آسٹریلیا میں حکومت کی جانب سے گھریلو بیٹری سسٹمز پر دی جانے والی سبسڈی نے سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں کے بجلی کے اخراجات کم ہونے کے ساتھ ساتھ روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار بھی گھٹنے لگا ہے۔
حکومتی اسکیم کے تحت گھریلو بیٹریوں کی خریداری پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ابتدائی لاگت میں تقریباً 30 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اس سہولت کے بعد بڑی تعداد میں شہری اپنے گھروں پر سولر پینلز اور بیٹری سسٹمز نصب کر رہے ہیں تاکہ دن میں پیدا ہونے والی بجلی کو ذخیرہ کرکے رات کے اوقات میں استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق سڈنی کے رہائشی پال ٹائلر نے سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھر پر 18 سولر پینلز اور 28 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب کی، جس کے بعد ان کا ماہانہ بجلی کا بل 275 آسٹریلوی ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 50 ڈالر رہ گیا۔
سولر پینلز پر ٹیکس برقرار، سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد
رواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران آسٹریلیا میں گھریلو بیٹریوں کی تنصیب میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے بیٹری بنانے والی بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تین میں سے ایک آسٹریلوی گھر پہلے ہی سولر پینلز سے لیس ہے، جبکہ بیٹری سسٹمز کی بدولت اضافی بجلی قومی گرڈ میں بھی شامل کی جا رہی ہے، جس سے بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں ایسے گھرانے موجود ہیں جو کرائے کے گھروں، اپارٹمنٹس یا محدود آمدنی کی وجہ سے سولر اور بیٹری سسٹمز سے محروم ہیں۔ حکومت ان طبقات کے لیے بلاسود قرضوں اور خصوصی رہائشی منصوبوں کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی تک رسائی بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
