چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے 5 جولائی 1977 کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسی روز عوام کے مینڈیٹ، آئین اور پارلیمانی جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ حکمرانی کے تحفظ کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 5 جولائی 1977 کے واقعات نے ملک کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے، تاہم جمہوریت کے لیے دی جانے والی قربانیوں نے یہ ثابت کیا کہ عوامی حاکمیت کے نظریے کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔
جمہوریت کے لیے قربانیوں کا ذکر
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آمریت کے دور میں یہ تصور کیا گیا تھا کہ عوام کی آواز کو خاموش کر دیا جائے گا، لیکن سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور متعدد جمہوریت پسند کارکنوں کی قربانیوں نے یہ ثابت کیا کہ حق، جمہوریت اور عوامی حاکمیت کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔
ان کے مطابق ان قربانیوں نے پاکستان میں جمہوری شعور کو مضبوط کیا اور آئینی بالادستی کی جدوجہد کو نئی توانائی فراہم کی۔
آئین اور ووٹ کے تقدس کے تحفظ کا عزم
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 49 برس گزرنے کے باوجود ان کی جماعت آئین کی بالادستی، ووٹ کے تقدس، پارلیمانی جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے دفاع کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام قومی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں اور جمہوری نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
متحد اور جمہوری پاکستان کی ضرورت
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جمہوریت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملک میں جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت، آمریت اور غیر جمہوری رویوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک متحد، جمہوری اور ترقی پسند پاکستان کی تعمیر ہی شہداء کی قربانیوں کا اصل مقصد تھا، اور اسی سفر کو آگے بڑھانا قومی ذمہ داری ہے۔
5 جولائی 1977 کو پاکستان میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا تھا۔ اس اقدام کے بعد آئین معطل ہوا، قومی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور ملک میں کئی برس تک فوجی حکومت قائم رہی۔ یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں اور مبصرین اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
