ٹرمپ کی ایران سے متعلق سخت گفتگو، کانگریس کی قرارداد کو ’’بے وقت‘‘ قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی کانگریس کی حالیہ قرارداد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی انتظامیہ ایران پر غیرمعمولی دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

latest urdu news

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کانگریس کی قرارداد ’’بے وقت اور بے معنی‘‘ ہے اور اس سے ان کی پالیسیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور امریکی حکمت عملی اپنے مقاصد کے حصول کے قریب ہے۔

کانگریس کی قرارداد پر اعتراض

ٹرمپ نے کہا کہ بعض سینیٹرز کے اقدامات نے ان کے لیے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، تاہم وہ اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں بھی اپنی حکمت عملی کو مکمل کریں گے۔

ان کے مطابق ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کو نتائج دینے کے لیے وقت درکار ہے، جبکہ کانگریس کی حالیہ قرارداد اس عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

سینیٹ میں قرارداد کی منظوری

دوسری جانب امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو محدود کرنے سے متعلق مشترکہ قرارداد کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کی گئی۔

یہ قرارداد اس مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے قبل کانگریس کے کردار اور اختیارات کو یقینی بنایا جائے۔ امریکی قانون سازوں کا ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ ایسے فیصلوں میں منتخب اداروں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ خارجہ اور دفاعی پالیسی پر جمہوری نگرانی برقرار رہے۔

ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی رہائی، ہرمز میں رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق

ایوانِ نمائندگان کی منظوری

یہ قرارداد اس سے قبل رواں ماہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اس پر ہونے والی بحث کے دوران مختلف ارکان نے ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور فوجی اختیارات کے استعمال پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔

ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی منظوری امریکی سیاست میں اس جاری بحث کا حصہ ہے جس میں صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار کے درمیان توازن پر زور دیا جاتا ہے۔

ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اختلافات

امریکا میں ایران کے معاملے پر سیاسی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک جانب ٹرمپ اور ان کے حامی ایران پر سخت دباؤ کی پالیسی کو مؤثر قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض قانون ساز سفارتی راستوں اور پارلیمانی نگرانی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی آنے والے دنوں میں بھی ملکی سیاست کا اہم موضوع بنی رہے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز ہے اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کے اثرات بین الاقوامی سیاست پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter