دوحہ: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک اور عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کی آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطری وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان قائم کی گئی ہاٹ لائن آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور استحکام کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس رابطہ نظام کا بنیادی مقصد غلط فہمیوں، غلط معلومات اور ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، تاکہ خطے میں کشیدگی دوبارہ نہ بڑھ سکے۔
معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا خدشہ
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے خبردار کیا کہ بعض عناصر موجودہ سفارتی پیش رفت اور معاہدوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بحری جہاز کو دھمکی موصول ہوتی ہے تو اس کی تصدیق براہِ راست ایران سے کی جانی چاہیے، تاکہ غلط اطلاعات کی بنیاد پر کوئی غیر ضروری کشیدگی پیدا نہ ہو۔
ان کے مطابق خطے میں اعتماد سازی کے لیے شفاف رابطے اور فوری معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
آبنائے ہرمز پر فیس کے منصوبے سے اختلاف
قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا کوئی باضابطہ ماڈل پیش کرتا ہے تو پہلے اس کے دلائل اور تفصیلات سامنے آنا ضروری ہوں گی۔ تاہم قطر اصولی طور پر ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کا بنیادی راستہ ہے، اس لیے اس اہم بحری گزرگاہ پر کسی ایک ملک کا کنٹرول یا اضافی مالی بوجھ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
بحری سرگرمیوں کی بحالی کی امید
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 30 دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں جنگ سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام کی بحالی نہ صرف تجارت بلکہ توانائی کی عالمی منڈی کے لیے بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث شپنگ اور توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم سفارتی کوششوں کے نتیجے میں حالات بتدریج بہتر ہونے کی توقع ہے۔
ایل این جی پیداوار کی بحالی بھی صورتحال سے مشروط
قطری وزیراعظم نے مزید بتایا کہ قطر آئندہ چند ہفتوں میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال کے معمول پر آنے سے جڑا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے سے متعلق کسی بھی تجویز یا تبدیلی کو عالمی توانائی منڈیوں میں انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
