قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے بجٹ، معیشت، جمہوریت اور خارجہ پالیسی سمیت متعدد اہم قومی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
عامر ڈوگر کی حکومت پر تنقید
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اقتدار میں ہوتے تو اسرائیل اور امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کی جرأت نہ ہوتی۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خود کو ملک چلانے کے لیے زیادہ موزوں قرار دیتے تھے، تاہم موجودہ حالات میں عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار میں مداخلتیں ہوتی رہی ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قوتیں اپنی جمہوری اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں۔
اسد قیصر کا بجٹ پر اعتراض
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعدد ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنا کاروبار محدود یا بند کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ بجٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے بات چیت چاہتی ہے تو پی ٹی آئی جمہوری مکالمے اور میثاقِ جمہوریت جیسے معاملات پر گفتگو کے لیے تیار ہے۔
شاندانہ گلزار کی تنقید
پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے بجٹ کو گزشتہ چند برسوں کا بدترین بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی منصوبہ غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں معاشی اشاریے نسبتاً بہتر تھے اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
پیپلز پارٹی کے رہنما مرزا اختیار بیگ نے قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے لیے مکمل تعاون کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کے لیے اگر اضافی وسائل درکار ہوں تو عوام اور سیاسی جماعتیں قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی حکومت کو مشورہ دیا کہ 500 ملین روپے سے زائد آمدنی والی سلیب پر عائد سپر ٹیکس کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے، کیونکہ کاروباری حلقے اسے ’’ٹیکس پر ٹیکس‘‘ تصور کرتے ہیں۔
مرزا اختیار بیگ نے سولر توانائی کے شعبے سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سولر پینلز پر ٹیکس نہ ہونے کے باوجود انورٹرز پر ٹیکس عائد کرنا قابل غور معاملہ ہے۔
عطا تارڑ کا بجٹ کو عوام دوست قرار دینے کا دعویٰ، خوشحالی کے نئے دور کی نوید
این ایف سی ایوارڈ اور روزگار کا مسئلہ
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مہیش کمار مالانی نے کہا کہ بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ کے ڈھانچے کو برقرار رکھا گیا، جسے انہوں نے پیپلز پارٹی کی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں روزگار کے مواقع کے حوالے سے نوجوانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے اور معاشی ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کو مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار کم کرنا ہے تو نجی اور سرکاری شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہوگا۔
بجٹ پر سیاسی اختلافات برقرار
قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث سے واضح ہوا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ کے معاشی اثرات، ٹیکس پالیسی، سرمایہ کاری اور عوامی ریلیف کے حوالے سے واضح اختلافات موجود ہیں۔ ایک جانب حکومت بجٹ کو معاشی استحکام اور ریلیف کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس سے مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئندہ دنوں میں بجٹ پر مزید بحث اور ترامیم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
