وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 عوامی ریلیف پر مبنی ہے اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف طبقات کی ضروریات اور مطالبات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے سخت فیصلے کیے۔ ان کے مطابق آج ملک میں میکرو اکنامک استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں، جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام میں شامل نہ ہوتا تو معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی تھی۔ ان کے بقول موجودہ حکومت نے معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرات سے نکال کر استحکام کی جانب گامزن کیا۔
بجٹ میں ریلیف کے دعوے
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق بجٹ میں کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کی گئی ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے گنجائش پیدا کی ہے اور کاروباری، صنعتی اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
بجٹ اقدامات پر صنعتکاروں کی مختلف آرا، عارف حبیب نے سرمایہ کاری میں اضافے کو مشکل قرار دے دیا
معاشی استحکام اور کاروباری ماحول
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں زرمبادلہ کی شرح میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا تھا، جس سے کاروباری برادری کو مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت مزید مستحکم ہوگی اور ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔
عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر
عطا تارڑ نے اپنی تقریر میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے اور ملک کی قیادت کی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہتری آ رہی ہے اور ملک ترقی و استحکام کے سفر پر گامزن ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 کا حجم
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث جاری ہے، جبکہ کاروباری اور معاشی حلقے بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بجٹ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومتی اعلانات اور پالیسی اقدامات عملی سطح پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور آیا یہ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی میں حقیقی بہتری لا پاتے ہیں یا نہیں۔
