پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مالیاتی مفاہمت، این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی برقرار رکھنے پر اتفاق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) اور Pakistan Peoples Party کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں مالی وسائل کی تقسیم اور وفاقی مالی دباؤ کم کرنے کے حوالے سے ایک اہم مفاہمت طے پانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے گا، جبکہ مرکز کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے متبادل انتظامات پر کام کیا جائے گا۔

latest urdu news

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت مالیاتی خسارے، قرضوں کی ادائیگیوں اور ترقیاتی اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کو نہ چھیڑنے پر اتفاق

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی اپنی موجودہ شکل اور فنڈنگ کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

یہ فیصلہ سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی دونوں ایسے معاملات ہیں جن پر ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

مرکز کو 10 کھرب روپے سے زائد مالی معاونت کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ انتظام کے تحت صوبے مختلف طریقوں سے وفاقی حکومت کو 10 کھرب روپے سے زائد مالی وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حتمی طریقہ کار ابھی طے نہیں ہوا اور اس پر تکنیکی کمیٹیاں مزید کام کریں گی۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاونت براہِ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں نہیں ہوگی بلکہ دیگر مالیاتی اقدامات کے ذریعے وفاقی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

بی آئی ایس پی پر رانا ثناء اللہ کی تنقید، پروگرام کی افادیت پر سوال اٹھا دیا

متبادل مالیاتی اقدامات زیر غور

ذرائع کے مطابق مجوزہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے، جن میں:

  • وفاقی اور صوبائی اخراجات کی نئی ترتیب (ری الائنمنٹ)
  • بعض ترقیاتی منصوبوں میں وفاقی شراکت کم کرنا
  • صوبوں کی جانب سے کچھ اضافی مالی ذمہ داریاں سنبھالنا
  • وفاقی فنڈڈ منصوبوں کے اخراجات میں صوبائی حصہ بڑھانا

تاہم ان تجاویز پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اعلیٰ سیاسی قیادت کی منظوری باقی ہے۔

بجٹ میں تاخیر کی ایک وجہ بھی یہی معاملہ

ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری اور پیشی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی یہی مذاکرات تھے۔ پیپلز پارٹی مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کو کسی صورت متاثر نہ کیا جائے۔

دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے مالی وسائل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وفاق کے پاس اخراجات پورے کرنے کے لیے محدود گنجائش باقی رہ گئی ہے۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور

ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صوبوں کو بھی وفاقی حکومت کے مالی بوجھ میں کمی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسی تناظر میں دونوں جماعتوں نے ایسے فارمولے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت موجودہ حساس مالیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے مرکز کی مالی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

سیاسی اور معاشی اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مفاہمت نہ صرف آئندہ بجٹ کے لیے اہم ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تعلقات کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سیاسی استحکام کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ متبادل مالیاتی انتظامات کے ذریعے وفاقی حکومت کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی جائے گی۔

اب تمام نظریں آئندہ بجٹ اور ان تکنیکی تجاویز پر مرکوز ہیں جن کے ذریعے اس مفاہمت کو عملی شکل دی جائے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter