ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین عاشورہ کے بعد ہونے کا دعویٰ، مختلف رپورٹس میں مختلف مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی خبر ایجنسی سے منسوب رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ Ali Khamenei کی نماز جنازہ اور تدفین عاشورہ محرم کے بعد انجام دی جائے گی۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

latest urdu news

رپورٹس کے مطابق متعلقہ انتظامی و سیکیورٹی ہیڈکوارٹرز کی جانب سے تدفین اور نماز جنازہ کی تفصیلات بعد میں باضابطہ طور پر جاری کی جائیں گی۔

تدفین کے وقت سے متعلق غیر حتمی اطلاعات

مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ نماز جنازہ اور تدفین کے شیڈول کو فی الحال حتمی شکل نہیں دی گئی۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اس سلسلے میں فیصلے عاشورہ محرم کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔

تاہم اس خبر کی آزادانہ تصدیق مختلف بین الاقوامی ذرائع سے فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث صورتحال غیر واضح قرار دی جا رہی ہے۔

مبینہ حملے سے متعلق متضاد دعوے

کچھ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران میں ایک رہائشی یا حساس کمپاؤنڈ پر مبینہ حملے کے بعد یہ صورتحال سامنے آئی، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے آزاد اور مستند تصدیق موجود نہیں ہے۔

ایران یا دیگر متعلقہ فریقین کی جانب سے اس نوعیت کے واقعات کی مکمل اور باضابطہ تفصیلات عام طور پر بعد میں جاری کی جاتی ہیں، اس لیے ابتدائی رپورٹس کو محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیتی خط، ایران سے یکجہتی کا اظہار

قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں

غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے داخلی سطح پر اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حساس معاملات میں حتمی معلومات صرف سرکاری اعلامیے کے بعد ہی قابلِ اعتماد سمجھی جا سکتی ہیں۔

خطے میں افواہوں اور معلوماتی غیر یقینی صورتحال

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اکثر اوقات مختلف قسم کی افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں سوشل میڈیا اور غیر رسمی ذرائع سے گردش کرتی رہتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں مستند خبر رساں اداروں کی تصدیق کے بغیر کسی بھی دعوے کو حتمی سمجھنا مناسب نہیں ہوتا۔

اس وقت بھی آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق رپورٹس میں تضاد اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بھی احتیاط سے ردعمل دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter