ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین Ebrahim Azizi نے کہا ہے کہ اگر امریکا کا موجودہ رویہ برقرار رہا تو ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان موجود ہے، جس کے بغیر کسی بھی سنجیدہ سفارتی عمل کو جاری رکھنا مشکل ہے۔
یہ بیان انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں دیا، جس میں ایران اور امریکا کے تعلقات، ممکنہ مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
امریکا پر عدم اعتماد اور مذاکرات کا تصور
ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران کو امریکا کی نیت اور طرزِ عمل پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ امریکی قیادت سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے ایران مذاکرات کو ایک عام سفارتی عمل کے بجائے وسیع سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور مذاکرات کے اصولوں کی پاسداری نظر آئے تو ایران بات چیت جاری رکھنے پر اعتراض نہیں کرے گا، تاہم موجودہ حالات میں ایسا ماحول موجود نہیں۔
مذاکراتی فریم ورک اور عملی مسائل
ایرانی رہنما نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اب تک کوئی ایسا قابلِ عمل فریم ورک سامنے نہیں آیا جس پر پیش رفت ممکن ہو۔ ان کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اس تعطل کی ایک بڑی مثال ہے، جس پر ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت یورینیم افزودگی یا جوہری امور پر کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات جاری نہیں ہیں اور یہ معاملات موجودہ مرحلے میں ایجنڈے کا حصہ نہیں۔
ایران-امریکا مذاکرات میں اعلیٰ ایرانی قیادت کا کردار بڑھنے لگا، روبیو کا دعویٰ
امن معاہدے کی شرط کیا ہے؟
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا انحصار دوسری طرف کے رویے پر ہے۔ اگر امریکا اسی طرزِ عمل پر قائم رہا تو ایران کے لیے اس عمل میں شامل رہنا ممکن نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اعتماد کے بغیر مذاکرات کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکتا اور اگر مذاکراتی عمل رُک جائے تو کسی بھی مثبت نتیجے کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔
خطے کی صورتحال اور ایران کا مؤقف
ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں خطے کی صورتحال اور خاص طور پر لبنان کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی شرائط، قومی مفادات اور اقتصادی معاملات میں عملی پیش رفت نظر آتی ہے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، بصورت دیگر ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران “مزاحمتی محاذ” اور اس سے وابستہ معاملات پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور موجودہ صورتحال میں کسی بھی دباؤ کے تحت پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
مجموعی سفارتی تناؤ برقرار
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان برسوں پرانا مسئلہ ہے، جس کے باعث جوہری معاہدے اور دیگر سفارتی کوششیں اکثر تعطل کا شکار رہتی ہیں۔ موجودہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا عمل ابھی مزید وقت اور سیاسی لچک کا متقاضی ہے۔
