سندھ میں گندم کی قلت نہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ کے وزیر خوراک محبوب الزمان نے صوبے میں گندم کی قلت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مناسب قیمت پر آٹا دستیاب رہے۔

latest urdu news

گندم اور آٹے کی قیمتوں پر اہم اجلاس

وزیر خوراک سندھ کی زیر صدارت گندم اور آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گندم کی دستیابی، ذخائر اور مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محبوب الزمان نے کہا کہ بعض عناصر مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی مہنگائی کے ذریعے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کے ذخائر کی رپورٹ طلب کر لی

صوبائی وزیر خوراک کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں موجود گندم کے ذخائر سے متعلق مکمل اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے گندم کے موجودہ اسٹاک، طلب اور رسد کے حوالے سے اعداد و شمار مرتب کر رہے ہیں اور جلد یہ رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کر دی جائے گی۔

محبوب الزمان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سستا اور معیاری آٹا عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ اسی مقصد کے تحت زرعی شعبے میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے کسانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے مالی معاملات مزید منظم اور شفاف ہوں گے۔

گندم کی قیمت میں 700 روپے کا اضافہ، آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں

فلور ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف

دوسری جانب فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیا ہے کہ صوبے میں گندم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق جب گندم کی آزادانہ نقل و حرکت جاری تھی تو مارکیٹ میں قیمتیں نسبتاً مستحکم تھیں اور رسد کا نظام بہتر انداز میں چل رہا تھا۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں گندم کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان کے مطابق پنجاب میں نافذ کی گئی پابندیوں نے مارکیٹ کے توازن کو متاثر کیا، جس کے اثرات صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک بھر کی گندم اور آٹے کی منڈیوں پر بھی محسوس کیے گئے۔

قیمتوں میں استحکام حکومت کے لیے بڑا چیلنج

ماہرین کے مطابق پاکستان میں گندم نہ صرف ایک اہم غذائی جنس ہے بلکہ آٹے کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق عام شہری کی زندگی سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں گندم کی دستیابی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور قیمتوں میں استحکام کو ترجیح دیتی ہیں۔ سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال قابو میں ہے اور گندم کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter