ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ، سفارتی حل پر زور

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مزید میزائل حملوں سے گریز کرے اور تنازع کے حل کے لیے دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنے۔

latest urdu news

اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کافی ہیں اور اب ضروری ہے کہ فریقین عسکری اقدامات کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔ ان کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ہی واحد مؤثر ذریعہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا تھا اور توقع تھی کہ آئندہ چند روز میں اس پر دستخط بھی ہو جائیں گے، تاہم حالیہ کشیدگی نے اس پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔

ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق خطے کی صورتحال کے باعث امریکی افواج کو مکمل الرٹ رکھا گیا ہے اور تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

عوامی مینڈیٹ کا احترام جمہوریت کی بنیاد ہے، حق حکمرانی ووٹ لینے والوں کو ملنا چاہیے: بیرسٹر گوہر

انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ موجودہ تنازع ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ خطے میں امن کے امکانات کو متاثر کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم سے بھی رابطہ کریں گے اور انہیں ایران کے خلاف مزید جوابی کارروائی سے گریز کا مشورہ دیں گے، کیونکہ مسلسل فوجی ردعمل تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter