بیروت: اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم نہ ہو سکی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے بعد حکام نے دریائے زہرانی کے جنوبی علاقوں کے مکینوں کو گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت جاری کی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی امن فوج کے ایک مورچے کے قریب مارٹر گولے گرنے سے زخمی ہونے والا اہلکار بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہونے والے حملوں میں جاں بحق افراد میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں نے جنگ بندی کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
غزہ اور لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے، مجموعی طور پر 18 افراد شہید
اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی اہداف پر راکٹ حملے کیے۔ تنظیم کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی عمل کو "باعثِ شرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک لبنانی عوام پر حملے جاری رہیں گے، اسرائیل بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نہ صرف جنگ بندی کے پابند رہنے پر متفق ہوئے بلکہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت 22 جون کو دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔
