وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ناراض ایم پی ایز کو منانے کا مشن، رابطے تیز

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور میں خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال اس وقت ایک بار پھر سرگرم نظر آ رہی ہے، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی جماعت کے ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے مختلف ایم پی ایز سے براہِ راست رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ اندرونی اختلافات کو کم کیا جا سکے۔

latest urdu news

رات گئے ملاقاتیں اور رابطے

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی رات گئے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ پر پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پارٹی امور اور حلقے کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ کی جانب سے متعدد ناراض اراکین اسمبلی سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے گئے، جن میں ان کے تحفظات اور شکایات کو سنا گیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ اراکین نے اپنے مسائل سے مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کیا ہے۔

پارٹی اندرونی صورتحال اور تحفظات

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بعض اراکین اسمبلی وزیراعلیٰ کی کارکردگی اور فیصلوں سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ ان اختلافات کو کم کرنے کے لیے مرکزی قیادت بھی سرگرم ہو گئی ہے اور وزیراعلیٰ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ناراض اراکین کو مناسب طریقے سے ایڈجسٹ کیا جائے۔

کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی لسانی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں، ترجمان سندھ حکومت کا فاروق ستار پر جوابی وار

پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ صوبائی حکومت کے معاملات متاثر نہ ہوں۔

عبدالغنی آفریدی کا مؤقف

ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے ملاقات کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ سے ضلع خیبر کی مجموعی ترقی اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق ملاقات میں عوام کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔

سیاسی صورتحال میں ممکنہ پیش رفت

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کے اندر پیدا ہونے والی یہ صورتحال اگر بروقت حل نہ کی گئی تو اس کے اثرات صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری رابطہ مہم کو اختلافات کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ رابطے اور ملاقاتیں کس حد تک پارٹی کے اندرونی اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter