ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے عوام نفرت، تقسیم اور لسانی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں اور اب وہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں شہر کی تباہی کے ذمہ دار عناصر آج خود کو قانون اور منصوبہ بندی کا علمبردار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فاروق ستار کے الزامات مسترد
اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ فاروق ستار کی جانب سے سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی پر لگائے جانے والے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں۔ ان کے مطابق عوام اب سیاسی نعروں اور پرانے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوتے اور زمینی حقائق کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ماضی میں کراچی کے ماسٹر پلان کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے، وہ آج دوسروں کو قانون اور شہری منصوبہ بندی کا درس دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جب ایم کیو ایم کو اقتدار اور اختیارات حاصل تھے تو شہر کے مسائل حل نہیں کیے گئے، جبکہ اب جاری ترقیاتی اقدامات پر تنقید کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے شہر میں امن بحال کیا، دعویٰ
سعدیہ جاوید کے مطابق کراچی میں امن و امان کی بحالی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شہر کو جرائم، بھتہ خوری اور خوف کی فضا کا سامنا تھا، تاہم ریاستی اداروں اور حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں صورتحال میں بہتری آئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے امن و امان خراب کرنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت شہر کے امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی افواہوں کی تردید کر دی
وفاق میں شمولیت کے باوجود کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے، تنقید
ترجمان سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کی وفاقی حکومتوں میں شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران وفاق میں موجود رہنے کے باوجود کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی شہر کے مفادات مقدم ہوتے تو وفاق سے سندھ اور کراچی کے لیے مزید ترقیاتی فنڈز حاصل کیے جاتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں شہری اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور مختلف بلدیاتی ادارے کن وجوہات کی بنا پر کمزور ہوئے۔
ہل پارک اور دیگر مقامات پر قانون کی یکساں عملداری کا اعلان
سعدیہ جاوید نے کہا کہ ہل پارک، گل پلازہ یا کسی بھی سرکاری و عوامی مقام پر غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں انفراسٹرکچر کی بحالی، شجرکاری، اربن فاریسٹ منصوبوں اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ ان کے بقول جہاں بلدیاتی اداروں میں اپوزیشن جماعتیں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں، وہاں منتخب نمائندوں نے ترقیاتی کاموں کے ذریعے اپنی کارکردگی ثابت کی۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
سندھ حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان حالیہ بیانات نے ایک بار پھر کراچی کی سیاست میں کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں جماعتیں شہر کی ترقی، اختیارات اور انتظامی امور کے حوالے سے ایک دوسرے پر تنقید کر رہی ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کے شہریوں کی بنیادی ترجیح بہتر بلدیاتی خدمات، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور روزمرہ مسائل کا حل ہے، جس پر تمام سیاسی قوتوں کو توجہ دینی ہوگی۔
