پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر Junaid Akbar Khan کو ساتھیوں سمیت حراست میں لینے کے بعد گلگت بلتستان سے باہر بھیج دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر عمل میں لائی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق جنید اکبر اور ان کے ساتھیوں کو گلگت بلتستان کے علاقے ہینزل سے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں صوبے سے باہر منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے اس اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی چیئرمین Barrister Gohar Ali Khan نے جنید اکبر کی حراست اور انتخابی سرگرمیوں سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کو مہم چلانے سے روکنا جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات Sheikh Waqas Akram نے بھی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو انتخابی مہم سے دور رکھنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان میں سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششیں انتخابی ماحول کو یکطرفہ بنانے کے مترادف ہیں۔
عمران خان کے بعد پارٹی میں قیادت پر سب دعوے دار ہیں: جنید اکبر
ادھر گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ Sajid Ali Baig نے مؤقف اختیار کیا کہ جنید اکبر اور ان کے ساتھیوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے مطلوبہ اجازت نامہ (این او سی) حاصل کیے بغیر مختلف مقامات پر ریلیوں اور سیاسی اجتماعات میں شرکت کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکام کی جانب سے این او سی حاصل کرنے کی ہدایت کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا گیا اور گلگت بلتستان سے بے دخل کر دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
