مناسک حج کے پہلے مرحلے میں دنیا بھر سے آئے تقریباً 18 لاکھ عازمین حج خیموں کے شہر منیٰ پہنچ گئے ہیں۔ یہ مرحلہ حج کے سب سے اہم روحانی سفر کا آغاز سمجھا جاتا ہے، جہاں عازمین مخصوص عبادات اور تیاری کے ساتھ اگلے دن کے اہم رکن کی طرف بڑھتے ہیں۔
عازمین آج رات منیٰ میں قیام کریں گے اور عبادات، دعا اور ذکر و اذکار میں مصروف رہیں گے، جبکہ کل 9 ذوالحج کو فجر کی نماز کے بعد حج کے سب سے اہم رکن یعنی وقوفِ عرفہ کے لیے عرفات کی جانب روانگی شروع ہوگی۔
وقوفِ عرفہ کی تیاری
وقوفِ عرفہ حج کا سب سے اہم اور بنیادی رکن تصور کیا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے عازمین منیٰ میں اپنی عبادات مکمل کر کے اگلے روحانی مرحلے کی تیاری کرتے ہیں۔
تمام قافلے منظم انداز میں میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں لاکھوں مسلمان ایک ساتھ دعا اور عبادت میں مشغول ہوں گے۔
شدید گرمی اور موسم کی صورتحال
سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق منیٰ اور عرفات میں موسم اس سال شدید گرم ہے، اور یومِ عرفہ پر درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ آج ادا کیا جائے گا، لاکھوں عازمین روحانی سفر کے اہم مرحلے میں داخل
گرمی کی شدت کے باعث انتظامیہ اور حکام نے پہلے ہی اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں تاکہ عازمین کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عازمین کے لیے خصوصی انتظامات
سعودی حکام کی جانب سے مقدس مقامات پر سایہ دار جگہوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹھنڈک فراہم کرنے والے مسٹ فینز اور طبی سہولیات کو بھی مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں، دھوپ سے بچاؤ کے اقدامات اپنائیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
حج انتظامات اور عالمی اجتماع
حج دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف ممالک سے آنے والے مسلمان ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر عبادات ادا کرتے ہیں۔ اس سال بھی لاکھوں افراد کے اجتماع کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ یہ روحانی سفر سکون اور حفاظت کے ساتھ مکمل ہو سکے۔
