حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ آج ادا کیا جائے گا، لاکھوں عازمین روحانی سفر کے اہم مرحلے میں داخل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

حج کے روح پرور مناسک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور آج 9 ذوالحج کو عازمینِ حج رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ ادا کریں گے، جو حج کا سب سے اہم اور بنیادی مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان اس وقت مقدس سرزمین پر موجود ہیں اور حج کے اس عظیم سفر کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

latest urdu news

گزشتہ روز 8 ذوالحج، جسے یومِ ترویہ کہا جاتا ہے، عازمینِ حج نے منیٰ میں قیام کرتے ہوئے عبادات میں وقت گزارا۔ شدید گرمی کے باعث بیشتر حجاج نے دن کا بڑا حصہ اپنے خیموں میں گزارا، تاہم شام کے وقت موسم نسبتاً بہتر ہونے کے بعد منیٰ کی گلیوں اور راستوں پر عازمین کی سرگرمیاں دوبارہ بڑھ گئیں۔

تقریباً 20 لاکھ عازمین منیٰ میں موجود

رپورٹس کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے تقریباً 20 لاکھ مسلمان اس وقت منیٰ میں موجود ہیں۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے حجاج کرام نے منیٰ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، جبکہ شام کے وقت میدانِ عرفات کی جانب ابتدائی قافلوں کی روانگی بھی شروع ہوگئی۔

حج کے انتظامات میں ہر سال دنیا بھر سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد کے پیش نظر خصوصی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تاکہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کو منظم انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

وقوفِ عرفات: حج کا سب سے اہم رکن

اسلامی تعلیمات کے مطابق وقوفِ عرفات کو حج کا بنیادی اور اہم ترین رکن قرار دیا جاتا ہے۔ آج تمام عازمینِ حج ظہر کی نماز سے قبل میدانِ عرفات پہنچ جائیں گے جہاں وہ عبادات، دعاؤں اور ذکر و اذکار میں مصروف رہیں گے۔

حج سکیورٹی کے لیے سعودی عرب کے سخت اقدامات، فضائی دفاعی نظام کی ویڈیو جاری

اسی دوران تاریخی مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا جائے گا، جسے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان بھی براہِ راست سنتے ہیں۔ خطبہ حج علی عبد الرحمٰن الحذیفی دیں گے۔

غروبِ آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے اور آئندہ مناسک کی تیاری کریں گے۔

شدید گرمی کے پیش نظر خصوصی انتظامات

سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق منیٰ اور عرفات میں درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حج کے دوران شدید گرمی کو ایک اہم چیلنج کے طور پر دیکھا گیا ہے، جس کے باعث حکام کی جانب سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں مقدس مقامات پر سایہ دار جگہوں میں اضافہ، مسٹ فینز، ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور طبی مراکز کی استعداد بڑھائی گئی ہے۔ مزید برآں، عازمین کو مسلسل پانی پینے، دھوپ سے بچنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ وہ مناسکِ حج بحفاظت ادا کر سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter