امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے ممکنہ سفارتی اور ثالثی کردار پر بین الاقوامی سطح پر تبصرے اور تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ترک میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے خطے کی بعض دیگر طاقتوں کے برعکس نسبتاً خاموش، منظم اور محتاط سفارت کاری کو ترجیح دی۔ تجزیے میں کہا گیا کہ اس دوران پاکستان نے براہِ راست عوامی بیانات کے بجائے سفارتی رابطوں اور بیک چینل روابط کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
ترک میڈیا نے کن عوامل کو اہم قرار دیا؟
ترک میڈیا ادارے کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس معاملات میں تجربہ، اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات نے اسے ایک منفرد حیثیت فراہم کی ہے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے حالیہ برسوں میں علاقائی روابط، اقتصادی منصوبوں اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان نے مختلف علاقائی اور عالمی قوتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو فعال رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کے امریکا، ایران، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ روابط کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
بیک چینل سفارت کاری پر زور
رپورٹ میں عاصم منیر کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے مطابق ان کی سفارتی حکمت عملی زیادہ تر خاموش روابط اور پس پردہ سفارت کاری پر مبنی رہی۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ مشکل حالات میں مختلف فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ سفارتی نوعیت کی ایسی سرگرمیوں کی تفصیلات اکثر عوامی سطح پر مکمل طور پر سامنے نہیں آتیں، اس لیے ان سے متعلق متعدد دعوے میڈیا رپورٹس اور تجزیوں کی بنیاد پر سامنے آتے ہیں۔
ایران سے ممکنہ معاہدہ ابھی حتمی مرحلے میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور پاکستان کی پوزیشن
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایسے ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو مختلف فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتے ہوں۔ پاکستان ماضی میں بھی کئی علاقائی معاملات پر سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف اس کی علاقائی ساکھ پر اثرانداز ہوا ہے۔
معاشی استحکام بھی اہم عنصر قرار
ترک میڈیا نے اپنی رپورٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اگر پاکستان کو اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو مستقبل میں برقرار رکھنا ہے تو اسے داخلی معاشی چیلنجز پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی قوت کا تعلق اس کی معاشی استحکام، سیاسی صورتحال اور علاقائی اثر و رسوخ سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کے کردار سے متعلق مختلف عالمی آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم مستقبل میں اس کردار کی نوعیت کا تعین خطے کی سیاسی پیش رفت اور سفارتی حالات پر منحصر ہوگا۔
