ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے تعلقات کے خدوخال طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

latest urdu news

معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے "کافی قریب” پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت نے ایسے نکات پر پیش رفت دکھائی ہے جو مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ممکنہ معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہوگا۔ ان کے مطابق اس میں یہ بات بھی یقینی بنائی جائے گی کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ایک قابل قبول اور محفوظ طریقے سے سنبھالا جائے۔

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ صرف ایسے معاہدے پر دستخط کریں گے جس سے امریکا کو اپنے تمام بنیادی مقاصد حاصل ہوں۔

ممکنہ معاہدے میں کن نکات پر غور جاری ہے؟

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں کئی اہم امور شامل ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات، بعض ایرانی اثاثوں کی بحالی اور مستقبل میں مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی تجویز شامل ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار؟ امریکی میڈیا کی اہم رپورٹ

جنگ یا معاہدہ؟ ٹرمپ نے دونوں امکانات بیان کر دیے

اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی تازہ تجاویز پر اپنے مذاکراتی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کریں گے اور جلد یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے یا دوبارہ سخت مؤقف اختیار کرنا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امکانات "ففٹی ففٹی” ہیں؛ یعنی یا تو ایک بہتر معاہدہ طے پا سکتا ہے یا پھر صورتحال دوبارہ کشیدگی کی طرف جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل اور آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

جوہری پروگرام اب بھی سب سے بڑا مسئلہ

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے نزدیک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات معاہدے کا مرکزی حصہ ہیں۔ ان میں یورینیم کی افزودگی، موجودہ ذخائر اور مستقبل کے جوہری اقدامات شامل ہیں۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان پیچیدہ معاملات کا فوری اور مکمل حل ایک مختصر مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی معاہدے کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے اطلاعات کے مطابق زیرِ غور تجویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے تقریباً 30 دن کی مدت مقرر کریں۔

آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں

امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، اور ہر نئی پیش رفت کو عالمی سطح پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اگر موجودہ مذاکرات کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچتے ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

تاہم حتمی تصویر اس وقت واضح ہوگی جب متعلقہ فریقین کی جانب سے سرکاری سطح پر کسی معاہدے یا اس کی شرائط کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter