آئی ایم ایف کی نئی شرائط، آئندہ بجٹ میں 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا امکان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سخت مالیاتی اقدامات اور نئی شرائط سامنے آئی ہیں، جن کے تحت 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت سے مختلف شعبوں میں ریونیو بڑھانے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے لیے مزید اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے تک وصولی کی توقع ہے، جبکہ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کی تجاویز بھی بجٹ منصوبے کا حصہ ہیں۔

آئی ایم ایف سے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری متوقع

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں مجموعی طور پر 160 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے بعد ان شعبوں پر سخت نگرانی اور آڈٹ نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔

ایف بی آر نے ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے، بڑے ٹیکس کیسز کی مرکزی سطح پر نگرانی اور سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سینکڑوں نئے آڈیٹرز بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق سخت آڈٹ اور ڈیجیٹل اقدامات کے ذریعے آئندہ سالوں میں اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور بیوریجز سمیت بڑے صنعتی شعبوں کی پیداوار پر بھی مکمل مانیٹرنگ کی جائے گی۔

معاشی تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال میں مختلف ذرائع سے ٹیکس آمدن کے بڑے اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، جن میں براہِ راست ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ملک کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہوگا، جبکہ دفاعی اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بھاری رقوم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت کو عالمی حالات، توانائی قیمتوں اور اندرونی مالی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم مالی اصلاحات اور سخت مالی نظم و ضبط سے طویل مدتی بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter