پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ اگر 28ویں آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کی شقوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی اپنی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرے گی۔
لاہور میں بطور گورنر پنجاب اپنے دو سال مکمل ہونے پر کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان نے مختلف عوامی منصوبوں اور انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر ان کی دو سالہ کارکردگی پر مبنی خصوصی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ آئینی ترامیم ہمیشہ قومی مفادات کے تحت ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی نے 26ویں ترمیم کی بعض شقوں پر اعتراضات اٹھائے تھے جنہیں بعد میں درست کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر نئی ترمیم لائی جاتی ہے تو اس کے مندرجات کو دیکھ کر ہی پارٹی اپنی رائے قائم کرے گی۔
28 ویں کی تیاری کریں: فیصل واوڈا مٹھائی لیکر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے
انہوں نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخصیت ہمیشہ ایک ہی عہدے پر رہنے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔
صوبائی حکومت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ حکومت پنجاب سے اختلافات “گھر کا معاملہ” ہیں اور چونکہ وہ اتحادی حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے اختلافات کو بڑھانا نہیں چاہتے۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ وہ ایک سیاسی شخصیت ہیں اور عوامی سرگرمیوں سے دور نہیں رہ سکتے، تاہم سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے رات گئے تک کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گورنر ہاؤس میں زیر التوا اپیلوں کو بھی نمٹا دیا گیا ہے اور اس وقت کوئی فائل زیر التوا نہیں۔
انہوں نے جامعات کے انتظامی معاملات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے تجویز دی کہ یونیورسٹیوں میں فیصلوں کے زیادہ اختیارات گورنر ہاؤس کے پاس ہونے چاہئیں، کیونکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی مداخلت کے باعث فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔
