Tehran میں معاشی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جہاں ایران کی قومی کرنسی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ڈالر کے بدلے تقریباً 18 لاکھ ریال وصول کیا جا رہا ہے، جو معیشت پر بڑھتے دباؤ کی واضح علامت ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ریال کی قدر میں تیزی سے کمی نے مہنگائی کے طوفان کو مزید شدت دے دی ہے۔ خوراک، ادویات، الیکٹرانکس اور دیگر درآمدی اشیا کی قیمتیں ڈالر کی قدر سے منسلک ہونے کے باعث عام شہریوں کے لیے زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران جمع ہونے والی ڈالر کی طلب اب کھلی منڈی میں سامنے آ رہی ہے، جس نے کرنسی پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی بدستور معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور برآمدات میں کمی نے ایران کے زرمبادلہ کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ حملوں میں صنعتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سٹیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
امریکا کی ایران کے مالیاتی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں، 35 ادارے اور افراد نشانے پر
ایران کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اپریل کے درمیان مہنگائی کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کرنسی کی مزید گراوٹ اور تعمیرِ نو کے اخراجات اس شرح کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے باعث ملک میں معاشی بے چینی اور عوامی احتجاج میں اضافہ ہوا تھا۔
