ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی ہے، جس پر تہران حکومت غور کر رہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ایرانی مؤقف اور الزامات
عباس عراقچی کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی خواہش اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی پالیسیوں اور دباؤ کے باوجود واشنگٹن اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا، جس کے باعث اب وہ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اس پیشکش کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے محتاط حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
روس کی ثالثی کی پیشکش
دوسری جانب روس نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
روسی صدر نے اس موقع پر کہا کہ روس خطے کے ممالک، خصوصاً ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق ماسکو خطے میں استحکام اور توازن برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر کا دوٹوک مؤقف: دباؤ اور پابندیوں میں مذاکرات ممکن نہیں
ایران-روس تعلقات کی نوعیت
ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے اپنے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری مستقبل میں بھی جاری رہے گی، جبکہ عباس عراقچی نے بھی اس شراکت داری کو اہم قرار دیتے ہوئے روسی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
خطے پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اس پیش رفت کا براہِ راست اثر پڑنے کا امکان ہے۔
تاہم، موجودہ صورتحال میں بیانات اور دعوؤں کے باوجود عملی پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور سفارتی لچک پر ہوگا۔ یہی عوامل آئندہ دنوں میں اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔
