دنیا کی بلند ترین عمارتوں کی دوڑ میں سعودی عرب کا مجوزہ منصوبہ جدہ ٹاور ایک بار پھر خبروں میں ہے، جس کی حالیہ تعمیراتی پیشرفت نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ یہ منصوبہ مستقبل میں فنِ تعمیر کی ایک بڑی مثال بننے کی توقع رکھتا ہے۔
جدہ ٹاور کی تعمیر کی موجودہ پیشرفت
جدہ ٹاور کی تعمیر کا آغاز 2013 میں ہوا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر یہ کام کئی سال تک معطل رہا۔ اب 2025 میں اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا گیا ہے اور حالیہ اطلاعات کے مطابق اس کی 100 منزلیں مکمل ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور پر اس کی تعمیر کا 50 فیصد سے زائد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔
جب یہ عمارت مکمل ہوگی تو اس کی متوقع بلندی 3280 فٹ (ایک کلومیٹر سے زائد) ہوگی، جو اسے دنیا کی پہلی ایک کلومیٹر بلند عمارت بنا دے گی۔ اس وقت دبئی کا برج الخلیفہ 2722 فٹ کی بلندی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔
ڈیزائن اور سہولیات
جدہ ٹاور کو معروف آرکیٹیکچر کمپنی “آڈرین اسمتھ پلس گورڈن گل” ڈیزائن اور تعمیر کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی کمپنی نے برج الخلیفہ بھی ڈیزائن کیا تھا۔
اس عمارت میں ہوٹل، رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر اور آؤٹ ڈور ڈیک شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک بھی اس کا حصہ ہوگا۔ عمارت میں 59 لفٹیں نصب کی جائیں گی جن میں سنگل اور ڈبل ڈیک لفٹس شامل ہیں، جبکہ 12 ایسکیلیٹرز بھی موجود ہوں گے۔

تاخیر اور دوبارہ آغاز
یہ منصوبہ مالی مسائل اور تکنیکی وجوہات کے باعث کئی سال تاخیر کا شکار رہا۔ 2018 میں اس کی تعمیر روک دی گئی تھی، جبکہ کووڈ-19 وبا نے بھی مزید رکاوٹیں پیدا کیں۔ اس وقت تک عمارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ مکمل ہو چکا تھا۔
مستقبل کا امکان اور لاگت
تازہ پیش رفت کے مطابق جدہ ٹاور کی تکمیل کا امکان اگست 2028 تک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے پر مجموعی لاگت 1.2 سے 2.7 ارب ڈالر کے درمیان متوقع ہے۔ مکمل ہونے کے بعد یہ عمارت نہ صرف دنیا کی بلند ترین عمارت ہوگی بلکہ جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کی ایک نمایاں مثال بھی سمجھی جائے گی۔
