5300 سال پرانے خمیر سے تیار کردہ روٹی، قدیم ممی نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سائنس دانوں نے ایک منفرد سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 5300 سال قدیم ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے ساور ڈو روٹی تیار کر لی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تجربہ قدیم جرثوموں اور انسانی تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

latest urdu news

یہ نایاب خمیر یورپ کی مشہور قدیم ممی "اوٹزی دی آئس مین” سے حاصل کیا گیا، جو اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین انسانی ممیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ممی ہزاروں سال تک برف میں محفوظ رہنے کے باعث غیر معمولی سائنسی اہمیت رکھتی ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین کو ممی کے جسم میں موجود پگھلے ہوئے پانی کے ذخیرے سے خمیر کی چار مختلف اقسام ملیں۔ ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان فنگس میں بھی وہی قدیم حیاتیاتی تبدیلیاں اور نقصانات موجود تھے جو ممی میں پائے جانے والے دیگر خردبینی جانداروں میں دیکھے گئے۔

محققین کا خیال ہے کہ یہ خمیر غالباً اس شخص کی وفات کے فوراً بعد اس کے جسم میں داخل ہوا تھا اور بعد میں انتہائی سرد ماحول میں محفوظ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہزاروں سال بعد بھی سائنسی تحقیق کے لیے قابلِ شناخت ثابت ہوا۔

یوریک ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ محقق محمد سارہن کے مطابق قدیم خمیر کی دریافت کے بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی تھا کہ آیا اسے دوبارہ استعمال کر کے روٹی بنائی جا سکتی ہے یا نہیں۔

سائنس دانوں کے لیے اس خمیر کو دوبارہ فعال بنانا آسان نہیں تھا۔ ابتدائی کوششیں ناکام رہیں، تاہم تقریباً تین ماہ کی مسلسل محنت اور تجربات کے بعد محققین اسے دوبارہ زندہ اور قابلِ استعمال بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

تحقیق کے آخری مرحلے میں اسی قدیم خمیر سے ساور ڈو روٹی تیار کی گئی، جسے ماہرین نے ذائقے اور ساخت کے لحاظ سے انتہائی معیاری قرار دیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف خوراک کی تاریخ بلکہ قدیم مائیکروبیالوجی کے شعبے میں بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter