ایران نے 3 ارب ڈالر کے اثاثے منتقل کرنے کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران: ایران نے اپنے منجمد مالیاتی اثاثوں کی مبینہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور ان کا مقصد گمراہ کن تاثر پیدا کرنا ہے۔

latest urdu news

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 3 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مختلف رپورٹس میں اثاثوں کی منتقلی کے حوالے سے متضاد دعوے بھی سامنے آئے، جس کے بعد اس معاملے پر مزید بحث شروع ہوگئی۔

ایرانی وزارت خارجہ کی وضاحت

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اثاثوں کی منتقلی سے متعلق تمام رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو خطے کے کسی ملک میں منتقل کیے جانے کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی خبریں مخالف فریقین کی میڈیا اور پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ایران کے بارے میں غلط معلومات پھیلانا ہے۔

منجمد اثاثوں کا معاملہ کیا ہے؟

ایران کے بیرونِ ملک موجود اربوں ڈالر کے اثاثے کئی برسوں سے مختلف پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی تنازعات کے باعث منجمد رہے ہیں۔ ان اثاثوں کی واپسی یا ان تک رسائی کا معاملہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم موضوع رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے مالی وسائل پر عائد پابندیاں غیر منصفانہ ہیں اور منجمد اثاثوں کی بحالی اس کا قانونی حق ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے دعوے اور ردعمل

اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی اثاثوں سے متعلق مالی سرگرمیاں ہوئی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس کا مقصد سیاسی اور سفارتی ماحول کو متاثر کرنا ہے۔

ایران کا امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، کارروائی کی ویڈیو بھی جاری

ایرانی حکام کے مطابق حساس مالیاتی معاملات کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے خطے میں غیر ضروری قیاس آرائیوں کو جنم ملتا ہے۔

خطے کی صورتحال اور سفارتی تناظر

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ نہ صرف اقتصادی بلکہ سفارتی اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع سے متعلق سامنے آنے والی ہر خبر بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرتی ہے۔

ایران کی جانب سے تازہ تردید کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت ایسی رپورٹس کو مستند نہیں مانتی اور ان کے مطابق اثاثوں کی منتقلی سے متعلق دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں۔

غیر مصدقہ خبروں پر احتیاط کی ضرورت

ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اور سفارتی معاملات سے متعلق خبروں کے حوالے سے صرف سرکاری اور مستند ذرائع پر انحصار کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں مختلف فریقین کے سیاسی مفادات بھی وابستہ ہوں، غیر مصدقہ اطلاعات کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ منجمد اثاثوں کی منتقلی کے حوالے سے زیر گردش دعوے بے بنیاد ہیں اور انہیں حقیقت کے بجائے پروپیگنڈا مہم کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter