اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقاتیں طے ہیں، جن میں خطے کی بگڑتی صورتحال اور امن کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور مختلف ممالک اس بحران کے حل کے لیے سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔
مصری وزیر خارجہ کی آمد اور اسحاق ڈار سے ملاقات
مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد پہنچے، جہاں دفتر خارجہ آمد پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور تعاون کے تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔
علاقائی صورتحال پر مشاورت
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے اور مذاکرات کو ہی مؤثر ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے
دیگر وزرائے خارجہ کی آمد اور اہم اجلاس
سفارتی ذرائع کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ بھی جلد دفتر خارجہ پہنچیں گے، جہاں وہ اسحاق ڈار سے علیحدہ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد کے بعد چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک مشترکہ اور اہم اجلاس متوقع ہے۔
یہ اجلاس اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں خطے کی مجموعی صورتحال، ممکنہ سفارتی حل اور مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان کا سفارتی کردار
پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں ایک متوازن اور فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ متعلقہ ممالک جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بصورت دیگر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
