اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں ہفتے کے آخر میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم ملاقات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اس سطح تک پہنچ چکی ہے جہاں براہِ راست ملاقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ اجلاس میں ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شرکت کر سکتے ہیں، جبکہ امریکا کی طرف سے اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔ اس ملاقات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا سے وابستہ ایک صحافی نے بھی سوشل میڈیا پر اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ترکیہ، پاکستان اور مصر اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سطحوں پر بات چیت ہو رہی ہے اور اس میں پیش رفت بھی سامنے آ رہی ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایران کسی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران سے مذاکرات جاری، ایک ہفتے میں ممکنہ پیش رفت کی امید

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہونا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

مزید برآں، ایرانی ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کے ذریعے کچھ پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم ایران نے تاحال ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter