امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو قیادت نہ کر رہے ہوتے تو ممکن ہے آج اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ آئزک ہرزوگ ایک کمزور اور غیر مؤثر رہنما ہیں۔ ان کے بقول اسرائیلی صدر اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے معافی کے فیصلے کو نیتن یاہو کے سر پر لٹکائے ہوئے ہیں اور اب تک انہیں معافی دینے سے انکار کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں اسرائیل کی مضبوطی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نیتن یاہو وزیر اعظم نہ ہوتے تو شاید آج اسرائیل کی موجودگی بھی خطرے میں ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مکمل طور پر نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں۔
اپنی ہلاکت کی افواہوں پر نیتن یاہو کو زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑ گیا
گفتگو کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی اور رہنما وہ کامیابیاں حاصل کر سکتا تھا جو انہوں نے اور نیتن یاہو نے مل کر حاصل کیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں ایسا ممکن نہیں تھا۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے دیگر ممالک بھی اس معاملے میں شامل ہوں، کم از کم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک اپنی تیل کی ضروریات اسی راستے سے پوری کرتے ہیں، اس لیے انہیں اس کی حفاظت میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
