ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان کی فضائی سرگرمیوں پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہوئے ہیں۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور فضائی حدود کی بندش کے پیش نظر پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ جانے والی مجموعی طور پر 156 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس اچانک فیصلے سے ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے۔
کراچی اور دیگر شہروں سے پروازیں معطل
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر کراچی ہے، جہاں سے دبئی، دوحہ، بحرین، شارجہ، ابوظہبی اور بغداد جانے والی 28 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ یہ روٹس پاکستانی مسافروں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً خلیجی ممالک میں کام کرنے والے افراد کے لیے۔
اسی طرح ملتان سے دوحہ، دبئی، شارجہ، ابوظہبی اور مسقط کی 22 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ فیصل آباد سے دبئی، شارجہ اور ابوظہبی کی 10 پروازیں معطل کی گئیں۔
لاہور، اسلام آباد اور دیگر ایئرپورٹس کی صورتحال
مزید برآں، سیالکوٹ سے خلیجی ممالک کی 12 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے دبئی، شارجہ اور دوحہ کی 40 پروازیں منسوخ ہوئیں، جو معمول کے دنوں میں بڑی تعداد میں مسافروں کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے شارجہ، دبئی، دوحہ اور ابوظہبی کی 28 پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ پشاور سے ابوظہبی، دوحہ، دبئی، جدہ اور شارجہ کی 16 پروازیں معطل رہیں۔
ایران کی فضائی حدود 6 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند
پس منظر اور ممکنہ اثرات
فضائی ماہرین کے مطابق خطے میں جنگی صورتحال یا فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئرلائنز حفاظتی اقدامات کے طور پر پروازیں معطل کر دیتی ہیں۔ ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔
اس حالیہ پیش رفت سے نہ صرف مسافروں بلکہ کارگو اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان فضائی رابطہ معاشی اور افرادی قوت کے تبادلے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات معمول پر آتے ہی پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا جائے گا۔
