کرک میں فتنۃ الخوارج کا وحشیانہ حملہ، زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس میں آگ لگا دی گئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فتنۃ الخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر حملہ کر کے ان اہلکاروں کو زندہ جلا دیا۔ اس واقعے کی مکمل فلم بندی بھی کر کے خوارج نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کا مقصد عوام میں خوف و دہشت پھیلانا بتایا جا رہا ہے۔

latest urdu news

حملے کے دوران ایک ایمبولینس کو آگ لگا دی گئی، جس میں زخمی اہلکار سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان جاں بحق ہوئے۔ شہداء سب خیبر پختونخوا کے مقامی تھے، جہاں سپاہی مراد گل اور سپاہی ایان خان ضلع ہنگو سے اور لانس نائیک عادل خان ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کرنے میں کامیاب رہی۔

مزید زخمی اہلکاروں میں حوالدار صابر، محمد یوسف، حنیف اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے دوران ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا۔

تفصیلات کے مطابق، یہ حملہ 23 فروری 2026 کو فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر ڈرون کواڈ کاپٹر سے کیا گیا۔ بعد ازاں زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر بھی حملہ کیا گیا، جو ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ یہ عناصر انسانیت اور مذہب سے بالکل دور ہیں۔

فتنۃ الخوارج کی سرحدی دراندازی ناکام، 25 دہشت گرد ہلاک، پاک فوج کے 5 جوان شہید

اسلام میں جنگ کے دوران زخمیوں پر حملہ کرنا حرام ہے اور ایسے واقعات دین اسلام کے اصولوں کے منافی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیاں ان کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

یہ حملہ رمضان کے مقدس مہینے میں ہونے کی وجہ سے بھی نہایت شرمناک اور بربریت کی انتہا ہے، جس میں نہ صرف زخمیوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مقامی پختونوں کو بھی وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کی سرگرمیوں کے بارے میں فوری اطلاع دیں تاکہ مزید نقصان روکا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter