سپریم کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی نے قتل کے مجرم دلاور خان کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیے۔
سپریم کورٹ میں دلاور خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں پشاور کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم قلبی عارضے میں مبتلا ہے اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس نے آپریشن کی ہدایت دی ہے، لیکن جیل میں صرف ڈسپرین دستیاب ہے۔
جسٹس عقیل عباسی نے کہا: "جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے؟”
جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ ملزم کس جیل میں ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ ملزم مردان جیل میں ہے۔ جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ مردان میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے، تاہم وکیل نے بتایا کہ مردان میں کارڈیالوجی ہسپتال نہیں، اس لیے پشاور کارڈیالوجی میں بورڈ بنایا جائے۔
عمران خان کی بینائی: وزیر قانون کا وضاحتی بیان، 6/6 آنکھ معجزے سے کم نہیں
عدالت نے پشاور کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیتے ہوئے 9 مارچ تک رپورٹ طلب کر لی۔
واضح رہے کہ 2025 میں مردان میں قتل کے الزام میں دلاور خان سمیت دو ملزمان نامزد ہوئے تھے۔ پہلے ٹرائل کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ڈی ایچ کیو مردان کی رپورٹ کی بنیاد پر درخواستیں خارج کی تھیں، جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ملزم کو فوری آپریشن کی ضرورت نہیں۔ بعد ازاں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹرز پر مشتمل دوسرا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، جس نے آپریشن کی ضرورت کی تصدیق کی، اور اسی بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ مرکزی ٹرائل ابھی ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے، جبکہ ایک ملزم اب بھی مفرور ہے۔
