عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی کارگو جہاز پر حملے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے جواب میں کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والے مقامات کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات پر حملے کیے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔
امریکی فوج نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اس کی افواج مسلسل تعینات ہیں اور ایران کے ساتھ طے شدہ انتظامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر چوکس رہیں گی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کی کارروائی پر ٹرمپ کا سخت ردعمل، جوابی اقدام کا عندیہ
غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب کی گئی، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے میں ایک مہنگے تجارتی کارگو جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ امریکا کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے چار ڈرونز میں سے تین کو امریکی دفاعی نظام نے فضا ہی میں تباہ کر دیا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی محدود دفاعی صلاحیت موجود ہے، تاہم امریکا کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
