امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب ایک ہزار میزائل نشانہ باندھے تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے مختلف علاقوں پر کارروائی کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ پر ہیں اور ایران کئی برس سے انہیں قتل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے قتل یا اقدامِ قتل کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے اور امریکا بھرپور جواب دے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے کسی بھی دھمکی پر عمل کیا تو مزید ہزاروں میزائل داغے جائیں گے۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے امریکا سے مذاکرات کے نئے مرحلے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران نے صرف ثالثوں کے دورے کو قبول کیا ہے۔
ٹرمپ نے بندر عباس پر امریکی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
واضح رہے کہ امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں جن کے مطابق ایران مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
