واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے پاکستان سمیت دوست ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں جاری فوجی کارروائی ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ فی الحال کارروائی روک کر ممکنہ معاہدے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق حالیہ فوجی پیش رفت کے بعد ایران کے ساتھ کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں ایران کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا، تاہم ساتھ ہی اعتراف کیا کہ تہران اس راستے کا انتخاب نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایرانی فوجی صلاحیتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران محدود نوعیت کے حملوں تک رہ گیا ہے، جبکہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود اندرونی طور پر وہ مذاکرات کا خواہاں ہے۔
امریکا کا مؤقف برقرار، ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو مشرقِ وسطیٰ، اسرائیل اور اس کے بعد یورپ و امریکا کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جبکہ آئندہ دورہ چین کے دوران Xi Jinping سے ملاقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایران کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور بطور مسلمان وہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں، کسی اور کے سامنے نہیں۔
