ایران نے امریکا کو شرائط پیش کردیں، ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں: محسن رضائی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکا کو اپنی شرائط سے آگاہ کردیا ہے، تاہم ان کے بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات اور جنگ کے درمیان فیصلہ نہیں کر پا رہے۔

latest urdu news

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی شرائط امریکا کے حوالے کردی ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے مطابق کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں۔

محسن رضائی نے یہ بیان آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف سے ملاقات کے دوران دیا۔ ان کی گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ٹرمپ مذاکرات یا جنگ، دونوں میں فیصلہ نہیں کر پا رہے: رضائی

ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر کے بارے میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی الجھن میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ تو مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ ہی جنگ کے حوالے سے فیصلہ کر پا رہے ہیں۔

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ اسی صورتحال کے باعث امریکا نے مایوسی میں فوجی محاذ پر فضائی محاصرہ کیا ہوا ہے۔ تاہم ان کے اس بیان کی مزید تفصیلات یا امریکی حکام کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف پوری قوت کے ساتھ اپنا دفاع کیا ہے اور وہ آئندہ بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

ایران قفقاز میں امن کے لیے تیار ہے: محسن رضائی

محسن رضائی نے کہا کہ ایران قفقاز کے خطے میں امن کے قیام کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے مطابق امریکا کا اس خطے میں کوئی مستقبل نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکا کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا یہ بیان ایران کی جانب سے خطے میں اپنی سلامتی اور علاقائی مفادات کے حوالے سے اختیار کیے گئے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے امریکی عوام کے سامنے کئی سوال رکھ دیے

دوسری جانب آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف نے اس تاثر کی تردید کی کہ آذربائیجان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال کی گئی تھی۔

ایران کی 7 نکاتی تجاویز پر امریکی جواب کا انتظار

ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 نکاتی امن تجاویز کے حوالے سے بھی پیش رفت کا انتظار ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکا منگل کو ان تجاویز کا جواب دے گا، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے انہیں تاحال باضابطہ طور پر قبول یا مسترد نہیں کیا گیا۔

ان تجاویز کے اہم پہلوؤں میں آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے اور خلیج فارس سے تیل کی ترسیل میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

ایران کا جوہری مؤقف برقرار

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا سے وطن واپسی کے موقع پر واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر تہران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایرانی حکام کی جانب سے ایک طرف سفارتی تجاویز اور مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے سخت بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں ایران کی 7 نکاتی تجاویز پر امریکی ردعمل آئندہ سفارتی صورتحال کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

فی الحال امریکا کی جانب سے ایرانی تجاویز پر باضابطہ فیصلہ سامنے نہ آنے کے باعث مذاکرات اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter