پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والا ملزم گرفتار، تحقیقات کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں: عطا تارڑ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ گمراہ کن مہم چلانے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات میں اس نیٹ ورک کے روابط بھارت سے ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔

latest urdu news

ملزم کی گرفتاری اور تحقیقات کا دعویٰ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس کی سرگرمیوں کے روابط بھارت سے ملتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار شخص سے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی تفتیش میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ مہم چلائی جا رہی تھی۔

بھارت سے فنڈنگ کا الزام

عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مخالف مواد کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے لیے ادائیگیاں بھارت سے کی جا رہی تھیں۔

ان کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات سے مبینہ "مس انفارمیشن نیٹ ورک” تک رسائی حاصل ہوئی، جس کے بارے میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس کے روابط بھارت سے ملتے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گرفتار شخص نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے فراہم کیا جانے والا مواد آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق تھا۔

سوشل میڈیا مہم سے متعلق الزامات

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکام کے پاس ایسے متعدد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات موجود ہیں جن کے ذریعے مبینہ طور پر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی گئی۔

پاکستان عالمی سطح پر مضبوط پوزیشن میں، بھارت کو تنقید کا سامنا: عطا تارڑ

ان کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے پرانی ویڈیوز کو آزاد کشمیر سے منسوب کر کے پھیلانے کی بھی کوشش کی گئی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر حکومتی مؤقف

عطا تارڑ نے اپنی پریس کانفرنس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تنظیم کی سرگرمیاں کشمیر کاز کے مفاد میں نہیں ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا اور پرتشدد احتجاج کے ذریعے امن و امان کی صورتحال متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس ان دعوؤں سے متعلق ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔

تحقیقات جاری، الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سکیورٹی ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تاحال حکومت کی جانب سے پریس کانفرنس میں کیے گئے ان دعوؤں کی تفصیلات یا شواہد عوامی سطح پر جاری نہیں کیے گئے، جبکہ ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان بیانات کو حکومت کے دعووں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور ان کی حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم اور عسکری قیادت کی کوششوں کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھا ہے اور ملک ترقی کے سفر کو جاری رکھے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter