ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کو فیصلہ کن اور معقول جواب دے چکا ہے، اب جنگ روکنے کے لیے فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنا مؤقف واضح اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق اب یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ جنگ روکنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے مزید محاذ کھولنے کی دھمکی
باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی اسٹریٹجک غلط اندازے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایران کے خلاف نئے محاذ کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی کسی بھی اسٹریٹجک غلطی کی صورت میں ایران کا ردعمل صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گا۔
ٹرمپ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتے ہیں؟ امریکی صحافی کا بڑا دعویٰ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے اس بیان کو امریکا کے لیے سخت پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں وسیع تر ردعمل دینے کا عندیہ دے رہا ہے۔
تاہم باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کسی مخصوص ممکنہ کارروائی یا نئے محاذ کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
