مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات سے متعلق مبینہ امریکی و اسرائیلی منصوبے پر نئی بحث

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک میڈیا رپورٹ میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق دعوے سامنے آئے ہیں، جن پر خطے میں توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کیا دعویٰ کیا گیا؟

latest urdu news

برطانوی ویب سائٹ کے مطابق ایک مبینہ منصوبے کے تحت امریکا اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے انتظامی نظام میں تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں متعدد امریکی، فلسطینی، اردنی اور خلیجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اردن کی نگرانی میں کام کرنے والی اسلامی وقف اتھارٹی کے کردار میں تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے اور اس کی جگہ ایک نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

مسجد اقصیٰ کی موجودہ انتظامی حیثیت

مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور تاریخی طور پر اردن کے زیرِ نگرانی اسلامی وقف کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ 1967 کی جنگ کے بعد بھی ایک مخصوص انتظامی نظام برقرار رکھا گیا تھا، جس کے تحت مذہبی انتظام اور نگرانی اردن سے منسلک وقف اتھارٹی کے پاس رہی، جبکہ سیکیورٹی معاملات اسرائیل کے زیرِ انتظام رہے۔

یہ انتظام کئی دہائیوں سے خطے میں حساس سیاسی اور مذہبی توازن کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

منصوبے سے متعلق مبینہ تجاویز

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کو ایک “کثیرالمذاہب مرکز” کے طور پر پیش کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اسی تناظر میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے رسائی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں زیر غور ہو سکتی ہیں۔

اسرائیل مسجد اقصیٰ کو یہودی عبادت گاہ میں بدلنے کی تیاری کر رہا ہے؟ فلسطینی اتھارٹی کا انکشاف

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بعض معاملات، جیسے انتظامی تقرریوں اور دیگر مذہبی امور سے متعلق تبدیلیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم یہ تمام نکات میڈیا ذرائع سے منسوب دعوے ہیں اور ان کے حوالے سے کسی جامع سرکاری سطح کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مختلف ممالک کے ممکنہ مؤقف

رپورٹ کے مطابق بعض عرب ممالک کو مبینہ منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جبکہ بعض علاقائی ممالک کی جانب سے تحفظات یا مخالفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں مسجد اقصیٰ کا معاملہ مذہبی، سیاسی اور سفارتی لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے علاقائی اثرات وسیع ہو سکتے ہیں۔

حساس معاملے پر محتاط رویہ ضروری

مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک نہایت مقدس مقام ہے اور اس سے متعلق کسی بھی خبر یا تجویز پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ چونکہ موجودہ دعوے بنیادی طور پر میڈیا رپورٹس اور ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے حتمی صورتحال کا تعین سرکاری مؤقف اور مستقبل کی پیش رفت سے ہی ممکن ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter