انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے مطابق نیوزی لینڈ کے خلاف ناٹنگھم میں جاری ٹیسٹ میچ ان کے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا آخری مقابلہ ہوگا۔
آخری ٹیسٹ میچ کے ساتھ شاندار کیریئر کا اختتام
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بین اسٹوکس کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کھیل کے آغاز سے قبل اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔
اس سے قبل ٹرینٹ برج میں تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ہونے والی پریس کانفرنس میں بین اسٹوکس نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا تھا کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے بعد ان کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی تھیں۔
15 سالہ بین الاقوامی کیریئر کا شاندار سفر
بین اسٹوکس نے 2011 میں انگلینڈ کی جانب سے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا، جبکہ دسمبر 2013 میں آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں ایشز سیریز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔
بعد ازاں اپریل 2022 میں انہیں انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ ان کی کپتانی میں ٹیم نے جارحانہ اور مثبت اندازِ کرکٹ کو فروغ دیا، جس نے انگلش ٹیسٹ کرکٹ کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کے چار سالہ دورِ قیادت میں انگلینڈ نے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں اور ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
نائٹ کلب جھگڑا: بین اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں پڑ گئی
بین اسٹوکس کے بین الاقوامی اعداد و شمار
بین اسٹوکس کا شمار جدید دور کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کے لیے 121 ٹیسٹ میچز میں 7,228 رنز اسکور کیے اور 246 وکٹیں حاصل کیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے 114 ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچز میں 3,463 رنز بنائے اور 74 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 43 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں 585 رنز اسکور کرنے کے ساتھ 26 وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔
ان کی آل راؤنڈ صلاحیت، میچ جتوانے والی اننگز اور اہم مواقع پر شاندار بولنگ نے انہیں انگلینڈ کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شامل کر دیا۔
ریٹائرمنٹ سے قبل تنازع اور تحقیقات
بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ حالیہ دنوں ایک تنازع کا سامنا بھی کر چکے تھے۔ لارڈز میں فتح کے بعد چیلسی کے ایک نائٹ کلب میں رات گئے ہونے والی جشن کی تقریب کے معاملے پر جاری تحقیقات کے باعث وہ دی اوول میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ریگولیٹر کی تحقیقات کے بعد انہیں تحریری وارننگ جاری کی گئی، تاہم مزید کسی بدعنوانی یا ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی سے بری قرار دیا گیا۔ اگرچہ اس واقعے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی کرکٹ خدمات اور بطور کپتان کامیابیاں انگلینڈ کی کرکٹ تاریخ کا اہم باب سمجھی جاتی ہیں۔
