ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں سست روی، 11 ماہ میں نصف سے کچھ زائد فنڈز خرچ ہو سکے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری فنڈز کے استعمال کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں ترقیاتی منصوبوں پر مختص رقم کا بڑا حصہ استعمال نہیں ہو سکا۔

latest urdu news

سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا ابتدائی حجم ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے کم کرکے 837 ارب روپے کر دیا گیا۔ جولائی سے مئی تک کے عرصے میں ترقیاتی منصوبوں پر تقریباً 530 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو اصل ہدف کے مقابلے میں 53 فیصد اور نظرثانی شدہ بجٹ کے لحاظ سے تقریباً 63 فیصد بنتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص 63 ارب روپے میں سے 44 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے مجموعی طور پر مختص فنڈز کا بڑا حصہ استعمال کیا۔ 33 وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے مختص 577 ارب روپے میں سے تقریباً 390 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزارتوں اور اداروں کو 575 ارب روپے سے زائد کے اجرا کی منظوری دی گئی، جبکہ سرکاری کارپوریشنز کے لیے مقرر کردہ 260 ارب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف میں سے صرف 139 ارب روپے خرچ ہو سکے۔

ترقیاتی شعبوں کے اعتبار سے پانی کے منصوبوں پر 106 ارب 64 کروڑ روپے میں سے 70 ارب روپے استعمال کیے گئے، جبکہ دفاعی ڈویژن نے مختص 9 ارب روپے میں سے 4 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کیے۔

پنجاب کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ فنڈنگ، جامعات کا بجٹ 25 ارب روپے تک پہنچ گیا

تعلیم کے شعبے میں وفاقی منصوبوں کے لیے مختص 26 ارب 60 کروڑ روپے میں سے تقریباً 21 ارب روپے استعمال ہوئے، جبکہ صوبوں اور خصوصی علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں پر 199 ارب روپے میں سے 154 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ ہائر ایجوکیشن کے منصوبوں کے لیے مختص 35 ارب روپے میں سے 28 ارب روپے استعمال کیے گئے۔

دوسری جانب ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کی کارکردگی نسبتاً کم رہی، جہاں 13 ارب 44 کروڑ روپے کے مقابلے میں صرف 2 ارب 77 کروڑ روپے خرچ کیے جا سکے۔ اسی طرح صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 11 ارب 63 کروڑ روپے میں سے 3 ارب 89 کروڑ روپے ہی استعمال ہوئے۔

وزارتِ داخلہ نے اپنے منصوبوں کے لیے مختص 11 ارب 51 کروڑ روپے میں سے 6 ارب 31 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ نیشنل فوڈ سکیورٹی کے منصوبوں پر 2 ارب 61 کروڑ روپے میں سے صرف ایک ارب روپے استعمال ہوئے۔ اس کے برعکس وزارتِ ریلوے نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 18 ارب 55 کروڑ روپے میں سے 15 ارب 68 کروڑ روپے خرچ کر دیے۔

ماہرین کے مطابق ترقیاتی فنڈز کے کم استعمال کی وجوہات میں منصوبوں کی سست رفتار تکمیل، انتظامی رکاوٹیں اور فنڈز کے اجرا میں تاخیر شامل ہو سکتی ہیں، جس کے باعث کئی منصوبے مقررہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter