بجلی سبسڈی برقرار رہے گی، 200 یونٹ صارفین کی رجسٹریشن صرف شفافیت کیلئے ہے: اویس لغاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ نئے رجسٹریشن نظام کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ سبسڈی حقیقی مستحقین تک پہنچے۔

latest urdu news

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ماہانہ 200 یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ ان کے مطابق رجسٹریشن صرف میٹر کے مالک کے لیے نہیں بلکہ وہ شخص بھی کروا سکتا ہے جو بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت اس عرصے میں 527 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کے تقریباً 86 فیصد بجلی صارفین کسی نہ کسی شکل میں سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3.5 کھرب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی اضافی بچت حاصل ہوئی ہے۔

حکومت نے 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کی منظوری دے دی

اویس لغاری نے مزید کہا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے مستقبل کے توانائی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 1200 میگاواٹ نیوکلیئر توانائی قومی نظام میں شامل کی جائے گی اور 2035 تک قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بتدریج بجلی کی خریداری کے روایتی نظام سے نکل کر ایک زیادہ مؤثر اور پائیدار توانائی ماڈل کی جانب بڑھ رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter