گورنر راج پہلے بلوچستان میں لگائیں، جہاں 80 فیصد حکومتی رٹ ختم ہوچکی: شاندانہ گلزار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کو بھی توجہ کا مرکز بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

latest urdu news

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ اگر گورنر راج نافذ کرنا ہے تو پہلے بلوچستان میں لگایا جائے، جہاں ان کے بقول حکومت کی 80 فیصد رٹ ختم ہوچکی ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی دھمکیوں پر ردعمل دیا اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گورنر راج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم ان کے مطابق صوبے میں ایسی صورتحال نہیں جس کی بنیاد پر یہ اقدام کیا جائے۔

بلوچستان کی صورتحال پر سوال

شاندانہ گلزار نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں حکومت کی 80 فیصد رٹ ختم ہوچکی ہے اور سوال اٹھایا کہ گورنر راج کا نفاذ وہاں سے کیوں شروع نہیں کیا جاتا۔

یہ بات انہوں نے ایسے وقت میں کہی ہے جب خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور صوبائی حکومت کے حوالے سے مختلف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے اپنی گفتگو میں وفاقی حکومت کو بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

اپنے حلقے میں دہشتگردی کا ذکر

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ان کے حلقے میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وفاقی وزیر داخلہ کبھی ان علاقوں میں گئے ہیں؟

شاندانہ گلزار نے پولیس لائنز دھماکے کی تحقیقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس واقعے کی انکوائری رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔

صدر اور وزیراعظم نے حکم دیا تو گورنر راج لگ سکتا ہے،فیصل کریم کنڈی

ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان واقعات کی تحقیقات اور نتائج بھی عوام کے سامنے لانے چاہییں تاکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے خدشات دور ہوسکیں۔

معاشی صورتحال اور مہنگائی پر تنقید

شاندانہ گلزار نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت خراب ہے اور مہنگائی عروج پر ہے۔ انہوں نے حکومتی ارکان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "فارم 47 والے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔”

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی محاذ آرائی نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور پولیس بھی ان کی اپنی ہیں اور وہ کتابوں والے لوگ ہیں، جہازوں والے نہیں۔

4 اکتوبر کے احتجاج کا اعلان

پی ٹی آئی رہنما نے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں اور کنٹینرز کے ذریعے راستوں کی بندش پر بھی تنقید کی۔ ان کے بقول اسلام آباد کو "کنٹینرستان” بنا دیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور جنید اکبر کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ نکلے گی۔

شاندانہ گلزار نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ان کی جماعت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا سیاسی مؤقف پیش کرے گی اور "نہ لیفٹ ہوں گے اور نہ رائٹ۔” ان کے یہ بیانات خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکانات اور آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter