ایف بی آر مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروبار سیل کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلز ٹیکس رولز میں نئی ترمیم کے بعد رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت مقررہ مانیٹرنگ نظام سے منسلک نہ ہونے والے کاروبار کو سیل کیا جا سکے گا۔

نئی ترمیم کے تحت متعلقہ کاروباری مراکز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل آئی سسٹم نصب کرنا لازم ہوگا۔ ایف بی آر کے مطابق جن رجسٹرڈ کاروباروں کو مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک ہونا ضروری ہے، ان کی جانب سے اس تقاضے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی جا سکے گی۔

کاروبار سیل کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کسی کاروباری مقام کو سیل کرنے کی کارروائی ایک مقررہ طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر ایف بی آر حکام کو کارروائی کے لیے پولیس کی مدد بھی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو یا اس سے اوپر کا افسر تحریری رپورٹ تیار کرکے کمشنر ان لینڈ ریونیو کو بھیجے گا۔ کمشنر اس رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری کرے گا اور اس کے بعد اپنی رپورٹ چیف کمشنر کو ارسال کرے گا۔

چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو معاملے کا جائزہ لینے کے بعد کاروباری مقام کو سیل کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تحریری حکم جاری کرے گا۔ اس طرح کارروائی براہ راست نہیں بلکہ متعلقہ افسران کی رپورٹ اور انکوائری کے مراحل مکمل ہونے کے بعد آگے بڑھائی جائے گی۔

مکمل یا مخصوص حصہ سیل کیا جا سکے گا

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ضرورت کے مطابق کاروباری مقام کو مکمل طور پر یا صرف اس کے مخصوص حصے کو سیل کیا جا سکے گا۔ تاہم کاروباری مقام سیل کرنے سے قبل متعلقہ کاروباری شخص کو حکم کی نقل فراہم کرنا ضروری ہوگا۔

گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں سے 476 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف

اس طریقہ کار کا مقصد ایف بی آر کے مطابق مقررہ مانیٹرنگ نظام کی تنصیب اور اسے ٹیکس حکام کے نظام سے منسلک کرنے کو یقینی بنانا ہے۔

مانیٹرنگ سسٹم نصب ہونے تک سیل برقرار رہے گا

ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ایک مرتبہ کاروباری مقام سیل کیے جانے کے بعد اسے اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک مطلوبہ مانیٹرنگ سسٹم ایف بی آر کے نظام سے منسلک نہیں ہوجاتا۔

سیل شدہ کاروبار دوبارہ کھلوانے کے لیے متعلقہ کاروباری شخص کو مقررہ جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ سسٹم بھی نصب کرنا ہوگا۔ اس طرح صرف جرمانہ ادا کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ سسٹم کی تنصیب اور ایف بی آر سے اس کا کنکشن بھی ضروری ہوگا۔

تنصیب کے وقت ایف بی آر کی ٹیم موجود ہوگی

نوٹیفکیشن کے مطابق مانیٹرنگ سسٹم نصب کرتے وقت ایف بی آر کی ٹیکنیکل ٹیم بھی موجود ہوگی۔ سسٹم کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد کمشنر ان لینڈ ریونیو تین دن کے اندر اس حوالے سے سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔

ایف بی آر نے مزید بتایا ہے کہ الیکٹرانک مانیٹرنگ سے متعلق ان قواعد کا دائرہ کار مستقبل میں مزید کاروباری مراکز اور مینوفیکچررز تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس طرح نئی ترمیم کے ذریعے ٹیکس نظام میں کاروباری سرگرمیوں کی الیکٹرانک نگرانی کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter